نئی دہلی،15/اپریل (ایس او نیوز/ ایجنسی) مذہب کی توہین کے الزام میں سابق آئی ایس ایس افسر کنن گوپی ناتھ، مشہور قانون داں پرشانت بھوش ایڈووکیٹ اور صحافی ایشلن میتھیو کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس پر سماجی کارکنان حیران ہیں۔ مذکورہ افراد کے خلاف یہ ایف آئی آر گجرات کے راج کوٹ میں درج کی گئی ہے۔ راج کوٹ پولیس نے 28/ مارچ کو کیے گئے ٹوئیٹ اورری ٹوئیٹ پر یہ معاملہ درج کیا ہے۔
پولیس نے الزام لگایا ہے کہ اس ٹوئیٹ سے عوام میں دہشت یا بے چینی پیدا کرنے اور ایک خاص مذہب کی توہین کے ارادے سے کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق 12/ اپریل کو بھگتی نگر پولیس اسٹیشن میں کنن گوپی ناتھ، پرشانت بھوش اور میتھیو کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ کہار جارہا ہے کہ 28/ مارچ کو پرشانت بھوشن نے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر کے ایک ٹوئیٹ کوری ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب جبراً نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کروڑوں لوگ بھوکے رہنے اور سیکڑوں کیلو میٹر پیدا چلنے کے لیے مجبور ہیں تب ہمارے منتری رامائن اور مہا بھارت کا افیون لے رہے ہیں اور عوام کو بھی یہ افیون مہیا کرانے کا جشن منارہے ہیں۔ رامائن دیکھتے ہوئے وزیر کی تصویر پر تنقید کیے جانے کے بعد پرکاش جاوڈیکر نے بعد میں اس ٹوئیٹ کو ڈیلیٹ کردیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق پرشانت بھوشن کے اس ٹوئیٹ کو مبینہ طور پر گوپی ناتھ اور میتھیو نے شیئر کیا تھا۔ پولیس نے کہا کہ بھکتی نگر کے رہنے والے 40سالہ فوجی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ گوپی ناتھ نے ٹوئیٹ کر کے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ گجرات پولیس نے میرے خلاف ایک ایف آر درج کی ہے۔ وہ بھی سرکاری حکم کا غلط مطلب نکالنے اور مبینہ طور پر پرشانت بھوشن کوری ٹوئیٹ کرنے پر، لیکن حکومت مجھے گرفتار کرسکتی ہے چپ نہیں کراسکتی۔‘ بعض دانشوروں اور سماجی تنظیموں نے اس ایف آئی آر کو حکومت کے اشارے سے تعبیر کیا ہے۔